کراچی پریس کلب کے زیر اہتمام کراچی پریس کلب کے ممبر، سینئیر صحافی اور مصنف شاہد حسین مرحوم کی یاد میں تعزیتی اجلاس کراچی پریس کلب کے ابراہیم جلیس ہال میں منعقد کیا گیا.اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شاہد حسین مرحوم کی صاحبزادی ڈاکٹر زویا نے کراچی پریس کلب اور ان کے دوستوں کا شکریہ ادا کیا اور اس امید کا اظہار کیا ہے شاہد حسین کے احباب انہیں اسی طرح مستقبل میں بھی یاد رکھیں گے، انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے والد کو ہمیشہ جدوجہد کرتے ہیں دیکھا ہے اور وہ اپنے اصولوں کے پابند تھے ، جب ان کو ڈاکٹرز نے علاج کرانے کا کہا تو وہ یہ ہی کوشش کرتے رہے ہیں کسی بھی طرح علاج سے بچا جائے، اسپتال میں بھی وہ کراچی پریس کلب جانے کی خواہش کا اظہار کرتے رہے، تعزیتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کراچی پریس کلب کے صدر سعید سربازی نے کہا کہ شاہد حسین پریس کلب کی پہچان اور ایک زندہ دل انسان تھے، وہ صحافیوں کے اس قبیلے میں شامل تھے جنھوں نےصحافت میں ایمانداری اور دیانت داری سے کام کیا اور اس سے کوئی پیسہ نہیں بنایا وہ غریبوں کا دوست تھا، پریس کلب کے سیکریٹری شعیب احمد نے کہا کہ شاہد حسین کی شخصیت ہمارے لئے مشعل راہ ہے ،کراچی پریس کلب اپنے مرحوم ممبرز کو یاد رکھتا ہے اور ان کی یاد میں تعزیتی ریفرنس کے انعقاد کا سلسلہ جاری ہے،ہم شاہد حسین کے عزیز و اقارب کے ساتھ مل کر ان کی نامکمل کتاب کی اشاعت کا ارادہ رکھتے ہیں، شاہد حسین نے طالب علمی کے دوران سیاست میں حصہ لیا اور صعوبتیں برداش کی، انہوں نے انسانی حقوق، ماحولیات اور تاریخ پر نمایاں کام کیا، سینئیر صحافی مظہر عباس نے کہا کہ شاہد حسین اپنی زندگی سے مطمئن تھا کہ اس پر کوئی کرپشن اور بدعنوانی کا الزام نہیں لگا، مگر ان کی مسلسل سگریٹ نوشی سے لگتا تھا کہ کوئی خلش ان کے اندر موجود ہے، ان کے لکھنے کے موضوعات میں وہ لوگ نظر آتے ہیں، جو خواب تو دیکھتے ہیں، مگر ان کی تعبیر نہیں ملتی، اگر وہ لکھنا شروع نہیں کرتے تو بہت پہلے ہی مر چکے ہوتے وہ اپنی دل کا غبار قلم کے ذریعے باہر نکالتا تھا،معروف صحافی مجاھد بریلوی نے کہا کہ شاہد حسین اپنے سیاسی نظریات کی وجہ سے جسمانی اور ذہنی تشدد کا شکار رہے لیکن ان کامریڈوں میں شامل نہیں تھے جن لوگوں نے اشتراکی دنیا میں اسکالرشپ لی اور پیسہ بنایا، وہ نام نہاد اشتراکیوں کے دوہرے رویوں کا بھی شکار رہے، سینیئر صحافی عابد علی سید نے کہا ہےکہ شاہد حسین اپنے نوعمری میں ریاستی تشدد کا شکار بنایا گیا، اب بھی ترقی پسند تحریک کے زندہ ہونے کے پیچھے شاہد حسین جیسے بہادر لوگوں کی قربانی اور ایمانداری شامل ہے، پروفیسر توصیف احمد نے کہا کہ شاہد حسین نے کبھی بھی اپنے ماضی کی جدوجہد اور اپنے نظریات کے خلاف بات نہیں کی انہوں نے میرے خلاف بھی لکھا لیکن پھر بھی ہمارے تعلقات خراب نہیں ہوئے وہ بہت محبت کرنے والے اور ملنسار شخصیت کے مالک تھے، تعزیتی اجلاس سے ڈاکٹر سید جعفر احمد،شاہد حسین مرحوم کی صاحبزادی ڈاکٹر زویا ، علیزے ، عورت فاؤنڈیشن کی مہناز رحمان، وارث رضا، سرفراز احمد، سہیل سانگی، مقصود یوسفی، ڈاکٹر تنویر شیخ اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے شاہد حسین کو اس کے صحافت اور سیاست میں بہترین کردار ادا کرنے پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہادر، نڈر، اور محنتی صحافی اور ماضی کا ترقی پسند سیاسی ورکر تھا، جس نے جسمانی اور ذہنی تشدد، معاشی اور دیگر مصیبتوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا. اس موقع پر کراچی پریس کلب کی گورننگ باڈی کے رکن ذوالفقار راجپر، ذوالفقار واوھچو ، شمس کیریو ،سینئر فوٹو اختر حسين سومروڈاکٹر بخشل،ذلف پیرزادہ، سعید جان بلوچ اور صحافیوں اور شاہد حسین کے دوستوں نے شرکت کی، پروگرام کے اختتام پر پریس کلب نے کل نائب صدر مشتاق سهيل نے شاہد حسین کے لیے دعا مغفرت کرائی#









